اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، الازہر کے مرکز برائے انسدادِ انتہاپسندی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی انسدادِ دہشت گردی کمیٹی میں دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر ظاہر کی گئی تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے نوجوان نسل کو انتہاپسندی کی طرف مائل کرنے کے نئے طریقوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
الازہر کے مرکز برائے انسدادِ انتہاپسندی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گرد گروہ بچوں اور نوجوانوں تک رسائی کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق اپنے تشہیری اور بھرتی کے طریقوں میں بھی تبدیلی لا رہے ہیں۔
یہ انتباہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی انسدادِ دہشت گردی کمیٹی کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کے کم عمر افراد کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کے اظہار کے بعد سامنے آیا ہے۔
مرکز نے مزید کہا کہ دہشت گرد گروہ نوجوانوں سے رابطے کے لیے ویڈیو گیمز اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔ بعض گروہوں نے پرتشدد انتہاپسندی سے متعلق موضوعات پر مبنی گیمز تیار کیے ہیں، جبکہ کچھ گروہ مقبول ویڈیو گیمز، بالخصوص شوٹنگ گیمز میں تبدیلیاں کرکے ان میں انتہاپسندانہ پیغامات اور مواد شامل کر رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت؛ انتہاپسندانہ تشہیر کا نیا ذریعہ
الازہر کے مرکز برائے انسدادِ انتہاپسندی نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کا غلط استعمال صرف کمپیوٹر گیمز اور سوشل میڈیا تک محدود نہیں، بلکہ مصنوعی ذہانت بھی دہشت گرد گروہوں کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے یہ گروہ کم وقت اور کم اخراجات میں مختلف زبانوں میں تحریری مواد، تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو فائلیں تیار کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے پیغامات کو ہدف بنائے گئے افراد کی دلچسپیوں اور خصوصیات کے مطابق ڈھالنے کے ساتھ ایسا گمراہ کن مواد بھی تیار کر سکتے ہیں جسے بعض اوقات حقیقی مواد سے الگ کرنا مشکل ہوتا ہے۔
مرکز نے خبردار کیا کہ دہشت گرد گروہوں کا مقصد صرف انتہاپسندانہ تشہیر پھیلانا نہیں بلکہ صارفین سے رابطہ قائم کرنا، بھرتی کے لیے موزوں افراد کی شناخت کرنا اور پھر عوامی پلیٹ فارمز پر ہونے والی بات چیت کو بتدریج نجی اور محدود گروپس یا چینلز تک منتقل کرنا بھی ہے۔
الازہر کے مرکز برائے انسدادِ انتہاپسندی کے مطابق یہ عمل کسی تفریحی مواد کی تشہیر یا کسی آن لائن کمیونٹی میں معمول کی گفتگو سے شروع ہو سکتا ہے، لیکن بعد میں نفرت، سازشی نظریات اور ایسے پیغامات کے فروغ کا سبب بن سکتا ہے جو سیاسی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے تشدد کو جائز قرار دیتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ